اسلامى اتحاد اور ىكجہتى كى فكر

تعرفه تبلیغات در سایت

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ 
جيسا کہ صاحبان ِ علم حضرات اس بات سے بخوبي واقف ہيں کہ دنيا خورشيد اسلام کے طلوع ہو نے سے پہلے تاريک و ظلماني تھي اور اس پرجہل و آشفتگي کا سايہ تھا قدرت مند مستضعفين کو اپنا غلام بنا ئے ہوئے تھے اور عالم ہستي دو بڑي طاقتوں ايران و روم ميں تقسيم ہو چکا تھااور ان دو قوي حکومتوں نے اپني طولاني جنگوں کے ذريعے دنيا ميں ہر طرف دہشت و خوف کا سيلاب جاري کر رکھا تھا  
يہود و نصاري اگر اس دور ميں خود کو موحد و متدين اور آسماني اديان و پيامبران الہي کا پيرو سمجھتے تھے ليکن عمل و کردار کے لحاظ سے تعليمات پيامبران الہي سے بہت دو ر تھے ان کے گفتار شرک و کفر آميز ہو تے تھے دوسري طرف قوم عرب اپني عربيت پر فخر فروشي کي وحشيانہ اور جاہلانہ زندگي ميں مست ،سرزمين حجاز جيسي وسيع و پہن اور زمين پراکندہ تھي ان کے درميان قتل و غارتگري کا بازار بہت گرم تھا شرک و بت پرستي عروج پر تھي ہر قبيلہ و طائفہ کا ايک جدا بت ہوتا تھا جس کي وہ صبح و شام پرستش کرتے تھے اور مختلف حادثات و مصائب کے وقت اس بت کے سامنے گھٹنے ٹيک کر اس سے رفع مصائب کي بھيک مانگتے تھے ان کے اجتماع ميں عورتوں کي کو ئي حقيقت و اہميت نہيں تھي گھر ميں پيدا ہو نے والي بچي زندہ در گور کر دي جاتي تھي  امير و غريب کے درميان اختلاف ، چھوٹے بڑے قبيلہ کے چھوٹے بڑے سردار ايک دوسرے سے بر سر پيکار تھے 
لوگ ايک دوسرے کے خون کے پياسے تھے بے ايماني اور بت پرستي عروج پر تھي  درندگي و بہيميت کے آثار نماياں تھے ايسے ہولناک ماحول ميں خدا و ند عالم نے انسانيت پر اپنے لطف و کرم کي بارش کر دي اور اپنے محبوب نبي حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو ظلم و ستم کي چکي ميں پسي ہو ئي انسانيت اور متحير و سرگردان انسان کے لئے راہنما بنا کر مبعوث کر ديا تا کہ يہ بشريت کي کشتي  حيات کو طوفان متلاطم اور انحراف سے ساحل نجات تک پہنچا سکيں نبي کريم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے بھي پوري جد و جہد کے ساتھ انھيں ذلالت و گمراہي سے نجات بخشي اور انھيں صراط مستقيم سے آشنا کيا  
آنحضرت کو اس راہ ميں بہت ساري زحمتيں بھي برداشت کرنا پڑيں انھيں اپنے وطن عزيز کو ترک بھي کرنا پڑا، مکہ سے مدينہ کي جانب ہجرت بھي کرني پڑي اور سر انجام انہوں نے ان کے درميان سے تعصب و جاہليت ،بت پرستي ،ظلم و فساد ،قتل و غارت گري ،لجاجت و ہٹ دھرمي و.... ختم کرکے جامعہ ميں امن و امان قائم کر ديا اور لوگوں کو اپنے اخلاق کے ذريعے خليق و خلاق بنا ديا پھر جب يہ لوگ اخلاقي فضائل کے زيور سے آراستہ ہو گئے تو علي الاعلان لوگوں کو اسلام مبين کي دعوت دي اور آہستہ آہستہ جوق در جوق لوگ دائرہ اسلام ميں داخل ہو تے گئے  اسلام کا نور ہدايت پوري دنيا ميں پھيلا اور لوگ اسلامي تعليمات اور پيغمبر اکرم  سے منسلک ہو نے لگے ، اخوت و برادري کا پرچم لہرانے لگا دشمنان اسلام کي آنکھيں خيرہ ہونے لگيں ، دنيا کے ہر گوشے ميں اسلام کا چرچہ ہونے لگا،اسلامي حکومتوں کي بنياديں رکھي جانے لگيں،مسلمان اخوت و اعتصام کے پرچم تلے جمع ہونے لگے، اسلام و بانيان اسلام کي صحيح تعليمات کو فروغ ملنے لگااور ديکھتے ہي ديکھتے ساري دنيا پر اسلام غالب آگيا بقول شاعر :

ترے وجود سے رحمت کو اعتبار ملا         ترے وجود سے خلقت کو افتخار ملا 
ترا وجود غلامي کو دے گيا زنداں         ترے وجود سے انسان کو وقار ملا
                                    ترا وجود تمدن کو دے گيا نقشہ 
                                 ترے وجود سے ديں کو خرِد کا ہار ملا
(م رعابد)
غير مسلم مفکرين و دانشوروں کے اعتراف کے مطابق جيسے انگلينڈ کا معروف دانشمند و رائٹر''جارج برنارد شاو'']1856-1950م[ لکھتا ہے : '' حضرت ختمي مرتبت کا آئين حيات بخش تھا لہذا پورے عالم کو اس نے دگرگون کرديا ،ميں نے محمد مصطفي   کي حيات طيبہ کي بررسي و جستجو کي ہے ،يہ ايک ايسي عظيم ہستي ہيں کہ جو ادارک سے بالاتر ہيں ان کے لئے ضروري ہے کہ وہ منجي عالم کے طور پر پہچانے جائيں،ميرے عقيدہ کے مطابق اگر ان جيسي کو ئي فرد دنيا کي تمام جديد و قديم حکومتوں کے زمام و رہبري کو اپنے ہاتھوں ميں تھا م ليتي تو يہ بات يقيني تھي کہ زمانے کے تمام حوادث کو صلح و آشتي اور سعادت مطلوب سے تبديل کرديتيميري نظر ميںيہ آئين محمد  (جو کہ ضامن حيات ہے) ''يورپ ''کے لئے آج کي طرح آنے والے کل ميں بھي قابل قبول ہے''(1)
مشہور و معروف فرانسيسي دانشور ''ولٹر''}1694-1779م{ لکھتا ہے ''بغير شک و ترديد حضرت ختمي مرتبت ايک بزرگ و برتر شخص تھے اور اپني آغوش تربيت ميں نيز بزرگ ہستيوں کي پرورش بھي کي ہے وہ بہترين قانون گزار اور بہترين سياست مدار بھي تھے ،انہوںروئے زمين پر ايسا انقلاب بپا کرديا جس کي کوئي نذير نہيں ملتي . . . . . . آپ  کے دين نے ہرگز شہواني تمايلات کي ترويج نہيں کي آپ  ايک ايسے خردمند قانون گزارتھے کہ يہ چاہتے تھے کہ عالم بشريت کو بدبختي ، جہالت اور فساد سے نجات بخشيںآپ روئے زمين پر ہر انسان کے لئے مردو عورت ،چھوٹے ،بڑے ،پڑھے لکھے ،کالے و گورے ، زرد و سرخ سب کے فائدے کو پيش نظر رکھتے تھے ''(ان کے يہاں کو ئي تعصب نہ تھا بلکہ يہاں ''الناسُ کلُّہم سواء کاسنان المشط'' کي طرح سارے مساوي تھےرا قم)(2)
انگلينڈ کامعروف فيلسوف و دانشمند ''ٹوماس کار لايل '' }5 9 7 1 - 1 8 8 1 م { لکھتا ہے:''محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي زندگي حکيمانہ اصولوں پر مبني تھي کہ جس کي پيروي ہر صاحب علم پر لازم و ضروري ہے تاکہ وہ صراط مستقيم ا و راہ ہدايت پر گامزن ہو جا ئے وہ حق پر گامزن ہيں ،پيغمبر ہيں اور خدا وندتوانا و دانا کي طرف سے مبعوث بہ رسالت ہو ئے ہيں بعض مسيحيوں کے وارد کردہ اتہام کہ انہوں نے اپنے آئين و دين کو تلوار کي زور پر پھيلايا ہے تو يہ محض تہمت و افترا ء کے کچھ بھي نہيں ہے وہ ان اتہامات کے ذريعہ ان کے آئين پر کاري ضرب لگانا چاہتے ہيں جو حقيقت سے کافي دور ہے  تہمت و افترا پردازي کرنے والے اس پر غور و فکر کريں ميري نظر ميں حق اپنے وجود کو ہر وسيلہ سے ظاہر کرليتا ہے (3)
مذکورہ نظريات و اعترافات در واقع وہ اسلامي دروس ہيں جو لوگوں تک ہاتھوں ہاتھ پہنچے ہيںاسلام کي نگاہ ميں تمام انسانوں کي اصل و اساس ايک ہے خانداني اور نسلي امتيازات اسلام کي نگاہ ميں کو ئي اہميت نہيں رکھتے تمام انسان خدا کے پيدا کردہ ہيں اور حقيقت ميں سب ايک ماں باپ سے ہيں ، سب قابل احترام ہيں سب مہر و محبت کے سزاوار ہيں يہي وجہ ہے کہ باني اسلام حضرت ختمي مرتبت صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے اسلام کي آزادي کے منشور کو کسي خاص گروہ سے مخصوص قرار نہيں ديا  آپ نے فرمايا :
''تحبّ الي الناس يحبوک '' انسانوں کو دوست رکھو سب تم کو دوست رکھيں گے (4)
اور يہي اسلام کے پيش رفت کے عوامل بھي ہيں کہ جيسے جيسے دنيا ميں اسلامي تعليمات پھيلتي رہي لوگ اسلام کو اپناتے رہے اور اسلام کے دلدادہ  اور اسکے کلمہ گو ہو تے گئے کيونکہ تحريک اسلام نے پہلا قدم يکتا پرستي ،توحيد اور بشر کے مساوي حقوق (مساوات)کے سلسلہ ميں اٹھايا ،اسلام ميں کسي کوکسي پر برتري حاصل نہيں ہے مگرصاحبان تقوي کو!
رسالہ ريووڈي پيرس (REVOEDEPARIS)لکھتا ہے ''....نہ جانے اسلام کيوں اسلام عجيب و غريب سرعت کے ساتھ پھيل رہا ہے ،ہر سال تقريباًپانچ ہزار اسلام قبول کر ليتے ہيں اور يہ تيزي سے پہلے سے نہيں تھي بلکہ تقريباًاسي صدي کے اندر اندر يہ بات يہ بات پيدا ہو ئي ہے 
اسي طرح سے نيپلس يونيورسيٹي کے استاد ڈاکٹر'' واکيا واگليري'' لکھتے ہيں: '' پتہ نہيں کيا بات ہے کہ اسلامي ممالک ميں غير مسلموں کو ضرورت سے زيادہ آزادي ،اور مسلمانوں کے پاس وسائل تبليغ کي قلت کے باجود آخري سالوں ميں اسلام ايشاي اور افريقہ ميں بڑي تيزي کے ساتھ پھيل رہا ہے  نہ معلوم اس دين ميں کون سي اعجازي قوت پوشيدہ ہے يا کونسي طاقت اس کے ساتھ مخلوط ہے کر دي گئي ہے ،اور نہ معلوم کيا قصہ ہے کہ لوگ روح کي گہرائيوں کے ساتھ اسلام قبول کرتے چلے جا رہے ہيں اور اسلامي دعوت پر لبيک کہہ رہے ہيں (5)
يقيناًتاريخ ميں مسلمانوں کے علاوہ کسي ايسي ملت کا تذکرہ نہيں ہے کہ جو اخلاق انساني سے آراستہ ہو ،حسن خلق ،امر نيک اور نہايت تہذيب و شائستگي کے ذريعے لوگوں کو اپنے دين کي طرف جذب کرے کيونکہ اب تک جتنے بھي لوگوں نے اسلام قبول کيا ہے ان کا اعتراف يہي ہے کہ اسلام کي صحيح تعليمات اور اس کي خوش اخلاقي کي وجہ سے ہم مسلمان ہو ئے جيسے:
محمد علي کلي (امريکي نژاد،بوکسنگ کا ہيرو )1963ئ22سال کي عمر ميں  يہ کہہ کر اسلام لے آيا کہ ''اسلام مبين نے ميري بڑي کمک کي ہے اور آئندہ بھي يہي ہميں کاميابي کا پيغام دے گا اور اسي سے ہماري اور دنيا کے تمام لوگوں کي  فردي اور اجتماعي مشکلات برطرف ہو گيميں اس بات پر بہت ہي خوشحال ہوں کہ دين اسلام کے ذريعے اپنے خدا ئے حقيقي کو پہچانا....اسي طرح سے ديگر افراد جيسے: ٹائسن( مسلمان ہونے کے بعد اس نے اپنا نانام مائيکل عبد العزيز رکھا ) ولٹر(فرانس کا معروف فيلسوف 65 سال ميں مسلمان ہوااور'' محمد'' نامي کتاب ميں اسلام اور بانيان اسلام کي بڑے اچھے انداز ميں مدح سرائي کي ہے )رنہ گنون (يہ بھي ايک فرانسيسي متفکر ہے جو 26  سال کي عمر ميں اسلام اور ختمي مرتبت  کي تعليمات سے متاثر ہو کر مسلمان ہوا اور 29کتابيں اور 500 مقالات اسلام کے حوالے سے لکھے انہي افراد کي طرح ''رُوسو''نے بھي اسلامي تعليمات سے متاثر ہو کر ہي دنيا کو اصولِ سہ گانہ :حريت ، اخوت اور مساوات کا پيغام ديا ،اور انقلابِ فرانس (1789ئ) کي بنياد انہي اصول سہ گانہ پر رکھي گئي تھي....تاتاريوں کو ديکھا جا ئے تو وہ بھي تعليمات اسلامي کي ہي بنياد پر مسلمان ہو ئے جيسا کہ تاريخ بيان کرتي ہے کہ تاتاري وہ وحشي قوم تھي جس  نے ابتداء ميں اسلام پر کاري ضرب لگا ئي اور سينکڑوں مراکز تہذيب و تمدن اسلامي کو برباد و ويران کر ديا اور لاکھوں مسلمانوں کا قتل بھي کيا تھاليکن آخر کار وہي تاتاري جنہوں نے مسلمان پر اس طرح ظلم و ستم کيا تھا انھيں گلے سے لگا ليا اور اسلام کے آگے گھٹنے ٹيک دئے !
''يدخلون في دين اللّہ افواجاً''
اسلام کي طرف بڑھتے ہو ئے لوگوں کے قدم ،اور اس کي تعليم ، تہذيب و تمدن سے متاثر لوگوں کا اسلام قبول کر ليناجو دشمنان اسلام کي آنکھوں کو چکا چوندھ کر رہي تھي جو نہ ہي اسلامي تمدني و ثقافت کي پيش رفت کو روک سکتے تھے اور نہ ہي دنيا کے تمام مسلمانون کا خاتمہ کر سکتے تھے لہذا انہوں نے جو وسائل استعمال کئے اور جو سازشيں رچيں وہ يہي ہے کہ اسلامي حکومتوں پر مسلط ہو کر اور اپنے دام فريب ميں انھيں ترقي کے نام پر بے ديني ،عربيت و عجميت اور فرقہ گرائي کا زہر گھولا اور مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمانوں کاہي قتل عام کروانے لگے حالانکہ اگر مسلمانوں کے ماضي پر ايک نظر ڈالي جا ئے تو يہ ديکھنے کو ملے گا کہ ہر محاذ پر مسلمان کامياب و کامران تھے جس کي وجہ يہ تھي کہ جب تک يہ اپنے دين و مشترکات پر عامل رہے انھيں ہر مقاصد ميں کاميابي ملتي رہي اوريہ اپنے دشمنوں کو مغلوب کرتے رہے ليکن جونہي ان کے درميان آپسي اختلافات،حسد و بغض اور منافقت کي آگ بھڑکي يہ بصارت سے محروم ہو گئے اور انھيں ہر محاذ پر ذلت و رسوائي کاسامنا کرنا پڑا اور آج عصر حاضر ميں جو ان کي حال زار ہے وہ ناقابل بيان ہے !کل نہتے بھي تھے اور نہايت قليل ہونے کے باوجودبھي دشمنوں پر بھاري تھے ليکن آج ڈيڑھ عرب سے زيادہ ہو نے کے باوجود بھي اسي دشمن سے جو کل ان سے رہنے کي زمين مانگ رہا تھا آج وہ اس اسے اپني زندگي کي بھيک مانگ رہے ہيں !
آخر کيوں ؟
اس لئے کہ کل ان پر مادي غلبہ کا ابر ضالہ سايہ افگن نہيں تھا يہ بڑي راحت وسکون کے عالم ميں اپني ارتقائي منزل طے کر رہے تھے ،آپس ميں سب متحد و منسجم تھے،فسق و فجور سے دور تھے ،دشمنوں کي گندي اور شيطاني سياست و سازشوں سے بخوبي واقف تھے ليکن آج دشمنوں نے قتل و غارت گري ،ايجاد بدعت ،زباني بہتان تراشي اور افترا کا درس دے کرانھيں فسق و فجور ميں الجھاکر تعليمات اسلامي سے دورکرديااورآپسي تمام اتحاد و انسجام ،امن و ايمان ....کو ان سے سلب کر ليا جس کا نتيجہ يہ سامنے آيا کہ مسلمان زمانہ جاہليت سے بھي بد تر حالات کي طرف پلٹ گئے کہ ان کے درميان بات بات ميں اختلاف ہونے لگا  
مختلف انواع و اقسام کے مذاہب پيدا ہونے لگے ، اصول و فروع دين ميں اور تمام چيزوں ميں اختلاف ہو گيا ،بادشاہوں ،حکام اور ملاؤں نے اختلاف کو ہوا دي ،کيونکہ ان کا شعار ہي ''اختلاف ڈالواور حکومت کرو''تھا ،چوٹ کھايا ہوا زخمي دشمن (استعمار و سامراج )نے موقع غنيمت سمجھا اور تجاوز کا آغاز کر ديا ، مسلمانوں کے ممالک ان کے چنگل ميں پھنس گئے اوريہ جنگل ميں پڑي ہو ئي لاوارث لاش کي طرح ہو گئے اور درندوں کے منھ کا نوالہ بن گئے!ايک مسلمان دوسرے مسلمان کے حالات سے بے خبر ،ايک مسلمان دوسرے مسلمان کے خون کا پياسہ !حالانکہ اسلام کہتا ہے کہ جس مسلمان کو مسلمان کي پرواہ نہيں ہے وہ اسلام سے بہرہ مند نہيں ہوا ہے،مسلمانوں کو آپس ميں مہربان ہونا چاہيئے ليکن آج اس کے بالکل بر خلاف ہيں ، مسلمانوں نے خود کوذليل کر ليا ہيء وہ کافروں کے ساتھ مہربان اور اپنے ہم ملکوں کے ساتھ سنگ دل !اور يہ در حقيقت ايک ايسي بدبختي ہے کہ جب تک مسلمان اس روش سے باز نہيں آئيں گے سختياں اور ذلت و رسوائي ان کا مقدر بني رہے گي کيونکہ جو اپنے حقيقي آئيڈيل و نمونہ کو چھوڑ کر کسي شيطاني نمونوں (ظلم ، رشوت،دروغ گو ئي ،تہمت زني وغيرہ )کو اپنا آئيڈيل بنا ليالہذا استعمار نے اس سے فائدہ اٹھاتے ہو ئے اس نے ان کے تمام اخلاقي اقدار کو فاسد کرديا اورجب اخلاقي اور اسلامي اقدار پائمال ہو گئے تو خود بخود رفتہ رفتہ ان کي مردانگي معرفت، غيرت اور حميت کا احساس ختم ہو گيا اور دشمنوں کے لئے حکومت کا دروازہ کھل گيا اب دشمنوں کي سازش ہے اور يہ مسلمان ہيں جو دنيا ميں ايک زندہ لاش کي طرح ہيں نہ ہي ان ميں کو ئي ان کي صحيح رہنما ئي کرنے والا ہے اور نہ ہي انھيں کو ئي دشمنوں کے چنگل سے نجات دينے والا ہے جو انھيں خواب غفلت سے بھي بيدا کرے اور انھيں دشمنوں کے شر سے بھي محفوظ     رکھ سکے  البتہ اصلاح کے نام پر فساد بپا کرنے والے اور ہدايت کے نام پر اخلاقي پستي ميں ڈکھلنے والے ايک نہيں ہزاروں ہيں جو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے نسلِ جديد کي تعليم و تربيت کا ايک الگ انداز ہي اپنا ئے ہو ئے ہيں کبھي ترقي کے نام پر ان کيلئے عالم غرب کي ترقي کو نمايا کرتے ہيں تو کبھي اسلامي کلچر کو قديم اور خشک مقدس بنا کر ان کے سامنے حيواني کلچر(فرنگي چال و چلن و...) کا قصيدہ پڑھتے ہيں!
چلئے يہ مان ليتے ہيں کہ يہ صحيح ہے کہ عصر حاضر ميں عالم اسلام ( مسلما نو ں ) سے زيادہ عالم غرب ترقي کي راہ پر گامزن ہے ليکن در حقيقت اس کي تمام تر ترقياں محض مادي ہيں اخلاقي عواطف اور معنويت سے يہ عاري افراد اگر چہ اپني علمي و صنعتي پيش رفت کے ذريعے چاند وستاروں پر چلے جائيں ليکن ان کا وجود ظرف اخلاق و معنويت کے اعتبار سے خالي نظر آتا ہے نہ ہي ان ميں سکون و اطمينان ہے اور نہ ہي مہر و محبت اخلاق و دين کا دور دور تک پتہ نہيں چلتا!جہاں خود کو ئي اخلاقي اقدار ،مہر و محبت نہ ہووہ کيا انسان کو منزل سعادت تک پہنچا سکتاہے ؟!
لہذاہمارے لئے ضروري ہے کہ ايسے افراد کا اپنے معاشرہ و سماج سے خاتمہ کيا جا ئے جو خفيہ طور پر اسلام مبين کي بيخ کني کر رہے ہيں اور جديد و پيش رفتہ اور مارڈن دور کے پيش نظر ہمارے مسلم سماج اور ہماري جديد نسل کو اخلاقي پستي کي طرف گھسيٹ رہے ہيں ہميں چاہيئے کہ ہم اسلامي کي اعلي تعليمات اور اس کے اخلاقي فضائل کے مد نظر چراغ ہدايت کے ذريعے خود بھي حق کي تلاش کريں اور عالم انسانيت کو بھي تاريکي و ظلمت سے نجات ديں جو معنويت سے خالي و عاري ہے کيونکہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر ہر مسلمان مرد وعورت کا فريضہ ہے  اس لئے اس نے اس امر پر تاکيد بھي کي ہے ، اسلام ميں رہبانيت و طبقاتي نظام(جو کہ در اصل ہندوازم و بدھ ازم کا منشور ہے) کي کوئي ا ہميت نہيں ہے لہذا اس نے اس کي سخت مذمت و ممانعت کي ہے تا کہ لوگ اجتماعي زندگي ميں ايک دوسرے کے معاون و مددگا ر رہيں اور جب انھيں اپنے مشترکہ دشمنوں سے نبرد آزمائي کرني پڑے تو وہ با آساني اس ميں متحدہ قوت کو بروکار لا کر اسے ہر محاذ پر شکست ديں ،يہ بات قابل غور ہے کہ ہمارا سماج ،ہمارا کلچر اور ہمارا اجتماع اسي وقت تمام فساد و گناہ سے پاک ہو سکتا ہے جب ہم ميں کا ہر فرد حسب ذيل تينوں باتوں کو اپنا مطمع نظر بنا لے :
1اخوت اسلامي ،مساوات اور آپسي مہر و محبت 
2تمام لوگوں کے حقوق کا تحفظ اور ايک دوسرے کا احترام 
3مراکز گناہ و فساد کي بيخ کني اور نفس پرستي سے اجتناب اگر ان تين باتوں پر جو اتحاد و اتفاق کي اساس و بنياد ہيں اپنے ملحوظ خاطر رکھا جا ئے تو ہمارا سماج ہر قسم کے انحراف و انحطاط سے محفوظ رہ سکتا ہے 
اگر ہم فرضي طور پرتمام چيزوں سے قطع نظر کرليں اور صرف قرآن مجيد کو اپنے اتحاد کا محور بنا ليں تو اس کا پہلا حکم : ''اعتصام بحبل اللہ ''اور ''انما المؤمنوں اخوة '' ہے اور دوسرا تفرقہ بے جا تعصب اور آپسي کشيدگي کي مذمت ہےاگر مسلمان ان فرمودات پر ذرا سا غورکرے تو اس کے لئے يہ بات روز روشن کي طرح واضح ہو جا ئے گي کہ يہ حکم ايک اخلاقي حکم بھي ہے اور سياسي و اجتماعي بھياگر چہ تمام مؤمنين کہ جو دين اسلام مختلف مذاہب و فرقوں ميں بٹے ہيں ليکن سب ايک خدا، ايک رسول،اور ايک ہي قرآن کے ماننے والے ہيں جس طرح ايک ماں باپ کے دو فرزند اور ان دونوں کي فکريں الگ الگ ہوتي ہيںپہلا کچھ سوچتا ہے تو دوسرا کچھ اور !ليکن دونوں کي بازگشت ايک ہي ماں باپ کي طرف ہو تي ہے اور ان کے درميان فکري و نظرياتي اختلافات پائے جانے کے باوجود وقت کے تقاضے کوملحوظ خاطر رکھتے ہو ئے اپنے مشترکہ دشمنوں کے حملات کا بطور احسن دفاع کرتے ہيں اور ايک دوسرے کي مصيبت ميں ايک دوسرے کے معاون و مددگار بن جاتے ہيں اگر يہي طريقہ کار ہمارا ہو جا تاتو دنيا ميں ہم اس طرح متفرق منتشر نہ   ہو تے اور نہ ہي عالم اسلام ميں کو ئي فتنہ و فساد بپا ہو تا !اور ہم اس طرح تمام بڑي اورقوي طاقتوں پر غالب ہو سکتے تھے  
سنن ترمذي ميں حضور سرکاردوعالم سے ايک روايت ہے کہ جسے آپ  نے حجة الوداع کے موقع پر فرمايا :
''ان اموالکم و اعراضکم و ماکم حرام عليکم کحرمة يومکم ھذا في شہرکم ھذا في بلدکم ھذا ''
اے لوگو!تمہارے اموال ،تمہاري ناموسيں ،تمہارا خون .. .. سب تم پر حرام ہيں ويسے ہي جيسا کہ آج يہ مہينے اور يہ شہر قابل احترام ہيں 
نيز آپ فرماتے ہيں (يہ جان لوکہ!)'' ليس منا من دعا عصبية و ليس منا من قاتل علي عصبية و ليس منا من مات علي عصبية '' ''وہ ہم ميں سے نہيں ہے جو تعصب رکھتاہو اور وہ بھي ہم ميں سے نہيں ہے جو تعصب کي بنا پر لڑائي جھگڑا کرے اور وہ بھي ہم ميں سے نہيں ہے جو تعصب رکھنے کي حالت ميں ہي اس دنيا سے چلا جائے''(6)
يہ روايتيں اس بات(انما المؤمنوں اخوة ،يعني مؤمنين آپس ميں  بھا ئي بھا ئي ہيں ) کي طرف متوجہ کرتي ہيںکہ ہر مسلمان پر برادرانِ اسلام کي جان و مال اور اس کي عزت و آبرو کي محافظت اور آپسي لڑائي ،جھگڑا اور بے جا تعصب سے اجتناب واجب و ضروري ہے 
يقيناًاسلام ايک ايسا ابدي دين ہے جس کي بنيا د فطرت اور تمام فطري تقاضوں پر استوار ہے اس کي نگاہ ميں تمام انسانوں کي اصل و اساس ايک ہے  خانداني اور نسلي امتيازات کو ئي اہميت نہيں رکھتے تمام انسان خدا کے پيدا کردہ ہيں اور حقيقت ميں سب ايک ماں باپ سے پيدا ہيں سب قابل احترام ہيں  
اسلام اپنے پيروکاروں کو يہ بتانا چاہتا ہے کہ يہ دين کسي خاص فرقہ و گروہ سے يا کسي فرد و نسل سے مختص نہيں ہے بلکہ يہ اجتماعي دين لہذا اس نے لوگوں کو ہميشہ اخوت اور مسالمت آميز زندگي کي دعوت ديتے ہو ئے آپسي اختلافات ، تفرقہ بازي اور اجتماعي و فردي فساد و گناہوں سے رو کتے ہو ئے مسلمانوں کو ايک عالمگير امت  بنا کر يہ اعلان کر ديا ہے کہ :'' ِنَّ ہَذِہِ ُمَّتُکُمْ ُمَّةً وَاحِدَةً وََنَا رَبُّکُمْ فَاعْبُدُونِ ''بيشک يہ تمہارا دين ايک ہي دين اسلام ہے اور ميں تم سب کا پروردگار ہوں لہذا تم ميري ہي عبادت کرو(7)
نازش انبيائحضرت ختمي مرتبت نے فرمايا :
ايھا الناس عليکم بالجماعة و اياکم و الفرقة اے لوگو! تم پر ضروري ہے کہ اتحاد و اتفاق سے رہو اور اختلاف و افتراق سے بچويہ تم پر فريضہ الہي (8)
در واقع حقيقي مسلمان ومؤمن وہ ہيںجو اپنے راستے کو اچھي طرح پہچانتے ہيں اور اپني خلقت کے ہدف کا ادارک بھي رکھتے ہيں ليکن ان کے مد مقابل ايسے بے ايمان ،بے دين اور منافق افراد ہيں جو علم آگاہي کے باوجود بے منطق تعصبات کي،فساد نفس اور مادي زرق و برق کي بنياد پر اپنے راستے اور اپني خلقت کے اہداف کو يکسرفراموش کر چکے ہيں لہذا عالم اسلام کے شرق و غرب ميں ايسے بھيانک سلسلے جنم لے رہے ہيں جسے ديکھنے کے بعد جگر خون ہو جا تا ہے  
اسلامي حکومتيں اور اسلامي حکام کا حال اب يہ ہے کہ يہ اس کے آگے سر تسليم خم کر رہے ہيں !اورصبر و استقامت کي روح گنواں بيٹھے ہيں جس کے نتيجے يہ سامنے آئے کہ وہ اس انجام کو پہنچ گئے ہيں کہ اب خدا ئي حمايت بھي ان سے سلب  ہو چکي ہے !
بقول شاعر معروف:
ما مسلمان چہ نيکو روزگاري داشتيم                راستي خوش عزت و خوش اعتباري داشتيم 
چون گل و بلبل ،انيس و مونس و دمساز              در گلستان وفا ،خوش برگ و باري داشتيم 
درميان ما در آمد عاقبت دست نفاق                   رفت از آن بر باد ھر عزّ و وقاري داشتيم
قتل و غارت گري کي مذمت اور امن وآشتي کا پيغام:
عصر حاضر ميں12سے 14 چودہ کروڑ يہوديوں نے ڈيڑھ عرب مسلمانوں کواپنے دامِ فريب ميں ايسا جکڑ رکھاہے کہ فلسطين ،افغانستان ، عراق،و...ميں انھيں بازيچہ  اطفال بنا دياہےآج جہاں مسلمان مظلوم ہيں وہيں ان کي درندگي ، بہيميت ، لادينيت،بے حيائي ،بے ايماني بھي اپنے عروج پر نظر آتي ہے پاکستان ، عراق و افغانستان و...کے حالات کاجائزہ ليا جا ئے تو يہ معلوم ہو تا ہے کہ کس طرح ايک مسلمان دوسرے مسلمان کو بے دردي سے قتل کر رہاہے يا مسلمانوں کے مساجد و ديگر عبادتگاہوں و...ميںدھماکہ کررہا ہے اور اس کي توجيہات ميں يہ ناعاقبت انديش گروہ کا کہنا ہے کہ ہم جو کچھ کر رہے ہيں وہ حصول جنت کے لئے کررہے ہيں !
يہ خيال خامي اور وسوسہ شيطاني کتنا مضحکہ خيز ہے کہ ايک مسلمان کاقتل جنت کے حصول کے لئے کيا جا رہا ہے !اگر تمہيں قتل ہي کرنا ہے تو ايسوں کو قتل کرو جو واقعاً واجب القتل ہے (جيسے :سلمان رشدي و..) جنکي تکفير کي جا رہي ہے اور جنہيں بے رحمي سے قتل کيا جا رہا ہے وہ بہرحال ايک خدا ،ايک رسول اور ايک قرآن کے ماننے والے ہيں يہ اور بات ہے کہ وہ چاہے سني ہوں يا شيعہ ، حنبلي ہوں يا مالکي ،شافعي ہوں يا حنفي ، بالاخر يہ سب ايک رسول  کے ہي کلمہ گو ہيں  
ليکن آج دنيا کے بعض مغربي ممالک (ڈنمارک ،ہاولينڈو...)ميں علي الاعلان رسول اکرم  کي توہين کي جا رہي ہے اور ان کے خلاف توہين آميز خاکوں فلموں، کتابوں ،جرائدو...کو شائع کيا جا رہا ہے جو نہ کہ صرف مسلمانوں کي ، ثقافت ، عقيدت و محبت بلکہ خاتم الانبيائ کي ذات اقدس کو ''العياذباللہ ''مجروح کرنے کي سعي لا حاصل ہے ليکن اس کے باوجود اس گستاخانہ حرکت پر يہ افراطي مسلمان خاموش تماشائي بنا بيٹھا ہے !جنہيں قتل کرنا چاہيئے اسے تو قتل ہي نہيں کرتے اور جنہيں قتل کرنے سے روکا گيا ہے ان کے خون سے اپنے ہاتھوں کو رنگين کئے ملک ميں مصلح بنے پھر رہے ہيں !
'' وَِذَا قِيلَ لَہُمْ لاَتُفْسِدُوا فِي الَْرْضِ قَالُوا ِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُون َلاَِنَّہُمْ ہُمْ الْمُفْسِدُونَ وَلَکِنْ لاَيَشْعُرُونَ''
جب ان سے کہا جا تا ہے زمين ميں فساد نہ برپا کروتو کہتے ہيں کہ ہم صرف اصلاح کرنے والے ہيں ، حالانکہ يہ سب مفسد ہيں اور اپنے فساد کو سمجھتے بھي نہيں ہيں  (9)
خنجر ہے دونوں ہاتھ ميں دامن لہو سے تر 
پھرتے ہيں ہر طرف يہ مسيحا بنے ہو ئے 
ايسے افکار و کردار کے حاملوں کا دين نہ ہي اسلام ہو سکتا ہے اور نہ يہ مسلمان کہلانے کہ لائق و سزاوار ہوسکتے ہيں کيونکہ ايمان و اسلام کسي کو غافلگيرانہ طور پر قتل کرنے سے مانع ہو تا ہے(10)
وَعَدَ ا الْمُنَافِقِينَ وَالْمُنَافِقَاتِ وَالْکُفَّارَ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدِينَ فِيہَا ہِيَ حَسْبُہُمْ وَلَعَنَہُمْ ا وَلَہُمْ عَذَاب مُقِيم ''اور اللہ نے منافق مردوں اور عورتوں سے اور تمام کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کيا ہے جس ميں يہ ہميشہ رہنے والے ہيں وہي ان کے واسطے کافي ہے اور ان کے لئے ہميشہ رہنے والا عذاب ہے(11)
ابو سعيد خدري سے روايت ہے کہ :رسول خدا  کے زمانے ميں ايک شخص کو لوگوں نے مقتول پاياتو اس کي خبر سرکار دعالم کي خدمت ميں پہنچائي کہ نہ جانے کسي نے ايک شخص کو قتل ديا ہے اور اس کي لاش فلاں مقام پر پڑي ہے ! آنحضرتيہ خبر سنتے ہي بيت الشرف سے مسجد ميں تشريف آ ئے اور منبر پر جاکر حمد و ثنائے الہي کے بعد ارشاد فرمايا : ''اے لوگو!ايک شخص مارا جا ئے اور اس کے قاتلوں کا پتہ تک نہ چلے کہ کس نے اسے قتل کيا ہے !؟خدا کي قسم جس کے قبضہ قدرت ميں ميري جان ہے اگر اہل آسمان وزمين ميں سے کو ئي شخص بھي کسي ايک مؤمن کے قتل ميں ہمکاري کرے يا اس کے قتل پر راضي ہو تو خدا وند عالم ان تمام لوگوں کو جہنم ميں داخل کر دے گا (12)
اسلام ،دين عقل و منطق ہے جس نے غبار تشکيک ميں تيقن کے چراغ جلا کر طلوع فجر کي نويد دي ہے اس کے نظام معاشرت کي بنياد حريت ، ا خوت ، مساوات و... پر مبني ہيں اور مخالفين کے ہر فتنے کا احسن جواب ديا ہے  اس نے کبھي کسي موقع پر بھي جنگ ميں پہل نہيں کي اور نہ کسي کو اس کي اجازت دي ہے  يہ وہ دين ہے جس ميں ايک ''پرندہ'' کو بھي عمدي طور پر قتل کرنے سے منع کيا گيا ہے بھلا وہ کيسے ايک مسلمان مؤمن کے قتل کا حکم صادر کرسکتا ہے ؟!(13)
قتل و غارتگري ، خون ريزي ،جنگ و ظلم اور دہشت گردي کے خاتمہ کے لئے تمام نوع بشر انساني کوامن و آشتي کا پيغام ديتا ہے  يہ اور بات ہے جہاں اس نے مسلمانوں کو دشمن کے خلاف نبرد آزما ہونے کي تشويق کي ہے تو اس کے لئے بھي شرائط بيان کئے ہيں جس کا خلاصہ ايک لفظ ميں يہي کيا جا سکتا ہے کہ اگر سامنے والا اہل منطق و فلسفہ ہے تو اس سے منطقي اور فلسفي گفتگو کي جا ئے اوراگر کو ئي اہل علم و درايت ہے تو اس سے علم و درايت کے ذريعے پيش آيا جا ئے  ليکن جو بجز زورگوئي ،لجاجت ، ہٹ دھرمي ،سينہ زوري ،طاقت و توانائي ،خون ريزي اور ظلم استبدا کے علاوہ کچھ سمجھتا ہي نہ ہو تو اس کے لئے پھر عقلي ،منطقي اور فلسفي گفتگو کو ئي فائدہ نہيں رکھتي بلکہ اس کے سامنے لشکر کشي ،نظامي ساز و باز اور جنگ کے تمام طريقہ کار کو اپنايا جا ئے اور اس کے باجود بھي اگر وہ صلح کے لئے تيار نہ ہو تو آمادہ پيکار ہو جا ئے اور اس طرح ان سے جنگ کي جا ئے کہ انھيں پھر ميدان قتال سے بھاگنے کا موقع فراہم نہ ہو سکے ان تعليمات اسلامي کے سايہ ميں ہر انسان و مسلمان کا لازمي فر يضہ ہے کہ ان تعليمات کو فروغ دے کردنيا ميں بالخصوص عالم اسلام ميں اسلامي اخوت اور مہر و محبت کا چراغ روشن کردے 
حضور ختمي مرتبت صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم فرماتے ہيں :
''الا ادلکم علي افضل من درجة الصلاة و الصيام و الصدقة ؟قالوا بلي يا رسول اللہ قال :اصلح ذات البين فان فساد ذات البين ھي الحالقہ لا اقول تحلق الشعر ہ لکن تحلق الدين ''اے لوگو!کيا تمہيں اس چيز کي طرف رہنمائي نہ کرو جو اجر و پاداش کے اعتبار سے نماز،روزہ اور صدقہ سے کہيں زيادہ اہميت کے حامل ہيں ؟لوگوں نے عرض کيا اے اللہ کے رسول  !ضرور آپ ہميں اس چيز کي رہنما ئي کريں 
آنحضرت  نے فرمايا :وہ چيزيں لوگوں کے درميان صلح و آشتي کا ايجاد کرنا ہے  در واقع اختلاف و عداوت ايسي تيغ بے مہار ہے جو نہ صرف بالوں کو ہي تراشتي ہے بلکہ دين ميں بھي خراش پيدا کر ديتي ہے 
مسلمانوں کے حرمت خون کا فتوي اس وقت صادر ہوتا ہے جب وہ کسي مسلمان کو عمداًقتل کرے ،محصنہ کے ساتھ زنا کرے ويا ارتداد پر اتر آئے حديث ميں ہے کہ حضور نے فرمايا:
''لا يحل دم امري ئٍ مسلم الا باحدي ثلاث النفس با لنفس والثيب الزاني والتارک لدينہ المفارق للسجاعہ '' مسلمانوں کا خون ]قتل[ حلال ومباح نہيں ہے مگر يہ کہ تين علتوں ميں سے کوئي ايک اس ميں پائي جائے کسي کو ناحق مار ڈالے ، شوہر دار عورتوں کے ساتھ زنا کرے تيسرے يہ کہ وہ مرتد ہو اسلام سے جدا ہوجائے ليکن اس ميں بھي اس کے قتل کا فتوي حاکم شرع صادر کرے گا اور وہي مجرم کو اس کي سزا بھي ديگا اس کے علاوہ کسي اور کو کوئي حق نہيں پہنچتا کہ وہ اسے قتل کرے!
قرآن مجيد کا ارشاد گرامي ہے کہ:
'' وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِيہَا وَغَضِبَ ا عَلَيْہِ وَلَعَنَہُ وََعَدَّ لَہُ عَذَابًا عَظِيمًا ''''وَلاَتَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ ا ِلاَّ بِالْحَقِّ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ''ليکن مسلمان عمداً مسلمان کے خون سے اپنے دست ہاي نجس کو رنگين کئے پھر رہا (14)
خاتم الانبياء حضرت ختمي مرتبت  اس سلسلے ميں فرماتے ہيں :
سباب المسلم فسق و قتالہ کفر مسلمانوں پر سب و ناسزا کو ئي جہالت اور انھيں ناحق قتل کرنا کفر ہے ''لا يقفنّ احدکم موقفاً يقتل فيہ رجل ظلماً فان اللعنة تنزل علي من حفرہ و لم يدفع عنہ ''ہرگز تم ميں سے کو ئي ايک بھي وہاں توقف (خاموش نہ رہے )جہاں کو ئي شخص نا حق قتل کيا جارہا ہو بے شک (يقيناً)ان لوگوں پر خدا کي لعنت و غضب کا نزول ہے جو وہاں حاضر ہوں اور اس کا دفاع نہ کريں (15)
عرفجہ سے راويت ہے کہ :ميں نے پيغمبر سے سنا ہے کہ آپ نے فرمايا: آيندہ ايک عظيم ہجوم اٹھے گا (اختلافات و تفرقہ بازي کي آگ بھڑکے گي ) لہذا جو بھي اجتماع و اخوت اسلامي کي بنياد کو متزلزل کرے وہ چاہے جو بھي ہو اسے قتل کر ڈالو(16)
دنيا ميں مسلمانوں کي اتني بڑي آبادي (ڈھيڑ ھ عرب )کے باوجود ہم شاہد ہيں کہ کبھي مسلمان عراق ،افغانستان ،پاکستان ،يمن ،افريقہ ،لبنان ، چچن ، بوسينہ تو کبھي فلسطين (کہ جسکے حالات روزانہ بد سے بدتر ہو تے چلے جا رہے ہيں !) مسلمان خاک و خوں ميں غلطاں ہے!ان تمام ظلم و ستم ،قتل و خون ريزي و....اس بات کي علامت ہے کہ مسلمان تعليمات اسلامي سے دور ہوچکے ہيں کفار و مشرکين انھيںخرافات ، فرقہ ورايت ،تفرقہ اندازي قتل خون ريزي و... کي طرف مائل کر کے اس ترقي پر جا پہنچے کہ آسمان تو آسمان چاند کے اس خطہ پر قدم رکھ ديئے جہاں انسان کے طائر فکر پرواز سے ڈرتے تھے  اور مسلمان ہے کہ وہ مذہبي تعصب ميں کہ وہ حنبلي ہے وہ شافعي ہے وہ مالکي ہے  وہ سني ہے وہ شيعہ ہے وہ فلاں مذہب سے مربوط ہے اور فلاں گروہ سے تعلق رکھتا ہے وہ ہاتھ کھول کر نماز پڑھتا ہے وہ ہاتھ باندھ کر نماز پرھتا ہے ان کي اذان ايسي کيوں ہے ہماري اذان ايسي کيوں نہيں ہے ان کي نماز ايسي ہے ہماري نماز ايسي کيوں نہيں ہے وہ محرم کيوں مناتے ہيں ہم محرم کيوں نہيں مناتے وہ جلوس کيوں نکالتے ہيں،ہم جلوس کيوں نہيں نکالتے!وہ ايسے وضوکيوں کرتے ہيں  ہم ايسے وضو کيوں نہيں کرتے !اس قسم کے ديگر دوسرے سوالات و ابہامات پر مسلمان ايک دوسرے سے متنفر ہے جو در اصل شيطان کي جعل سازي ہے 
اگر ہم قرآن مجيد ،سيرت رسول و آل رسول اور سيرت صحابہ کرام پر نظر ڈاليں تو ہمارے ان تمام سوالات کے جواب کا حل موجود ہے ليکن بات يہي ہے کہ دشمنان اسلام مسلمانوں کو پيشوايان اسلام کي سيرت سے قريب جانے ہي نہيں ديتے اور يہ سياست آج کي نہيں بلکہ صدر اسلام سے ہي يہي چلي آرہي ہے کہ تشنگان ِ حق سے حقائق کو پوشيدہ رکھو، انہيں مذہب کے نام پر لڑاؤ،ان کے اتحاد و اتفاق کي بنياديں متزلزل کردو،ان کے مقدسات کو پائمال کردو ،انھيں علم و ادب ، تعليم و تعلم سے دور رکھو،ان کے درميان بے راہ روي ، بے ديني ،بے حيائي عريانيت،فحاشي ،نشہ آور چيزيں (شراب ،ڈرگس و...)،نائٹ کلب ،غير اخلاقي فلميں جيسي مہلک بيماري ميں مبتلا کردو تا کہ يہ علم و صنعت ،تمدن و ثقافت ،معاشرہ کي اصلاح ،دين داري ،اسلامي و قرآني تعليمات ،آپسي مہر و محبت و اتحاد کے بارے ميں سوچ بھي نہ سکيں اور ہم اس طرح انھيں اس مرض ميں مبتلا کر کے ان کے تمام سر مايہ حيات پر قابض ہو جائيں گے اور جب يہ ساري چيزيں ہمارے پاس ہوں گي تو مسلمان لا محالہ ہماري طرح جيسا کہ کل ہم ان سے رہنے کے لئے گھر مانگا کرتے تھے وہ ہم سے زندگي کي بھيک مانگيں گے !
جيسا کہ ناظرين تاريخ يہ اچھي طرح جانتے ہيں کہ اسلام کي روز افزوں شہرت اور اس کي مقبوليت سے خوف زدہ ہو کر اسلام و مسلمين کے خلاف بغاوت کے پرچم بلند کئے اور  1914ء ميں پہلي جنگ عظيم شروع ہو ئي اور آجتک يہ جنگ مختلف صورتوں ميں رونما ہو رہي ہے جس کا اعتراف خود برطانيہ کا معروف جاسوس ''ہمفرے '' نے کيا ہے کہ'' ہم اپنے مقاصد ميں اسي وقت کامياب و کامران ہو سکتے ہيں کہ جب ہم مسلمانوں کے درميان مذہبي فرقہ گرائي ، ان کے مذاہب ميں رخنہ اندازي ، بے لگام خواہشات نفس کا ابھار، انھيں ان کي ممنوعہ چيزوں(جيسے سورکا گوشت، شراب ، نائٹ کلب، ربا، زنا، لواط، قماربازي، فحشائ، بے پردگي ، بے حيائي،عريانيت ، دين ميں شک و شبہ کا ايجاد کرنا و...) سے نزديک کيا جا ئےاور اس کے لئے ہميں زيادہ زحمت و مشقت بھي برداشت کرنے کي ضرورت نہيں ہے صرف ہمارا يہ کام ہے کہ ہم ان امورکي انجام دہي کے لئے اولاً اپنے کچھ ايسے لوگوں کو ان کے درميان چھوڑا جا ئے جو ان کي شکل و شمائل اختيار کريں اور پھر وہ ان کے درميان رہ کر انہيں ميں سے ضمير فروش لوگوں کواپنا ہم مزاج بناليں اور پھر انھيں جاہ جلال دولت و ثروت کي لالچ دے کر ان کے افکار و ضمير کو خريد ليں  بقيہ کام وہ خود کرليں بس ہم اپني مسند شيطاني پر بيٹھے مسلمانوں کے انحطاط و زوال اوران کے مقدسات کي( آئين اسلام ،شريعت رسول  اور قرآني تعليمات ) ہتک ہرمت کا تماشا ديکھتے رہيں گے! ''اور اس سازش کا نتيجہ بھي يہي سامنے آيا کہ ديکھتے ديکھتے مسلمان اپنے مرکزِ حقيقي سے منحرف ہو کر فرقوں ميں بٹ گئے اور اپنے عقائد ،اپني رائے ،اپنے قياس ، اورشاہي سکوں کي لالچ ميں وہ شرمناک حديثيں ،حکايتيں اور مسائل بيان کر دئے کہ جسے ديکھ کر مسلمان تو مسلمان غير مسلم افراد بھي ہنسنے لگے اور ان کي انگلياں اسلام و مسلمين کے خلاف اٹھنے لگيں !
دشمنوں کي اس شاطرانہ چال سے قوم کے ہمدرداور مصلح افراد نے مسلمانوں کوآگاہ بھي کرنے کي کوشش کي جيسا کہ معروف مفکر'' سيد جمال الدين اسدآبادي''جنہوں نے اپني تحرير و تقرير سے دنيائے اسلام ميں بيداري پيداکردي اور مسلمان و غير مسلمانوں کو اس حقيقت سے آگاہ بھي کيا تھا کہ قرآن حکيم سے بڑھ کر کو ئي صحيفہ کو ئي ضابطہ کو ئي نظام بني آدم کي روحاني، اخلاقي، سياسي،اور مادي ترقي کا ضامن نہيں ہے اور دين اسلام ايک کشتي کے مانند ہے جس کے ناخدا خاتم الابنياء حضرت محمد مصطفي  ہيں اور اس مقدس کشتي کے مسافر دنيا کے تمام مسلمين ہيں اس وقت يہ عالم ہے کہ يہ کشتي عالمي سياست کے تھپيڑوں ميں گرفتار ہے اور بين الاقوامي سازشيں اس کشتي کو غرق کرنے کا مصمم ارادہ رکھتي ہيں لہذا  امت مسلمہ کے لئے ضروري ہے کہ وہ خواب غفلت سے بيدار ہو جا ئے  ليکن ان کي حق گو ئي پر جب دنيائے اسلام نے لبيک نہيں کہا !تو آپ نے اپنے ايک مضمون ميں اپنا دردِ دل ان الفاظ ميں بيان کيا : 
''ان المسلمين قد سقلت ھممھم ،ونامت عزائمھم و صاقت خواطرھم و قام شئي واحد فيھم و ھو شھواتھم ....''اس ميں  کو ئي شک نہيں ہے کہ مسلمانوں کي ہمتيں زائل ہو چکي اور ان کے ارادوں اور ولولوں پر خواب مسلط ہو چکي ہے اور ان کے قلوب مردہ     ہو چکے ہيں بس ايک چيز ہے جو ان ميں قائم ہو گئي ہے اور وہ ہے ان کي نفس پرستي(شہوتيں ) !(17)
بقول علامہ اقبال :
بجھي عشق کي آگ اندھير ہے
مسلماں نہيں راکھ کا ڈھير ہے!
دنيا کے تمام مذاہب سے بہتر و اعلي مذہب ،مذہب اسلام ،دنيا کے تمام اصولوں سے بہتر اسلام کے اصول ،دنيا کي تما م فضيلتوں سے بہتر اسلام کي فضيلت و برتري،ليکن يہ سارے شرف و فضائل کے ہونے کے باوجود آج کے مسلمانوں کا ايمان اور ان کا طرزِ فکر فاسد کيوں ہو گيا ؟رشتہ اتحاد و اخوت،مساوات و ہمبستگي اور اسلامي تعليمات سے منھ موڑ کر جبر و قہر اور باہمي منافرات ميں سر گرم کيوں ہيں ؟ جبکہ آج يہ ہم ديکھ رہے ہيں کہ آج کا معاشرہ طرح طرح کي مشکلات سے بر سر پيکار ہے اور اس کو سعادت و کاميابي کا راستہ نہيں مل رہا ہے اس کي وجہ يہي ہے کہ آج کا مسلمان درواقع اپنے اصلي محور و مرکز سے ہٹ کر کسي اور پر تکيہ و باور کرنے لگا اور وہ دويگر مسلمانوںسے بالکل بيگانہ ہے وہ صرف اور صرف اپنے لئے سوچتا ہے اس کي ساري فکر بس اس کے اپنے لئے ہے اس لئے ضروري ہے کہ آج کے مسلمانوں کے درميان مہر و محبت ، ا خوت ،اتحاد و انسجام کے جذبات کو بيدار کئے   جا ئيں تا کہ وہ اپنے وجود کائنات ميں دوسروں کے درد و غم کا احساس کر سکے اور اگر يہ جذبات بالکل ختم ہو جا ئيں گے تو يقيناً اسے ہر طرف سے بد بختياں ، پريشانياں گھير ليں گي کہ اس کے علاج کرنے کے باوجود بھي وہ اس کے عالم وجود کے لئے وبال جان بن جائيں گي
جيسا کہ عالم اسلام کي معروف شخصيت''  آية اللہ علي کاشف الغطا ئ''  نے ايک کانفرنس ميں عالم اسلام کو مخاطب کرتے ہو ئے فرمايا تھا:
''اے مسلمانو ديکھو! تفرقہ پردازي سے پرہيز کرو ،اپنے ہاتھوں سے ايسا کام انجام نہ دو جو تمہاري شکست کا باعث ہو....ايک دوسرے کے بھا ئي بھا ئي بنے رہو
نيز آپ نے فسلطين (بيت المقدس)ميں 118اسلامي ممالک کے مذہبي دانشوروں اور اسلام کے مختلف فرقوں کے علماء کي موجودگي ميں لوگوں کو متنبہ کرتے  ہو ئے فرمايا :...آج مسلمانوں کے ہاتھوں ميں بہت بڑي طاقت ہے جو کہ مغربي ممالک کے ہاتھوں ميں نہيں ہے، اگر چہاقتصادي لحاظ سے مغرب مسلمانوں سے آگے ہے،اسلامي اقدار کا تحفظ اور غيرت کي حرارت ہمارے سينوں ميں موجود ہے کہ جو ہمارے تمام مقاصد سے دفاع کے لئے ابھارتي ہے ،دور و نزديک کے ممالک کے تمام مسلمانوں کي روح ميں عشق اسلام کا جذبہ موجزن ہے ...ايک دوسرے سے جدا رہنا اور اختلاف پيدا کرنا ايسي خصلتيں کہ جس کے ريشے ہمارے اندر پھيلے ہو ئے ہيں جس مجبور ہو گئے ہيں فکر ورائے کا اختلاف اور آزادي  فکر انسان کي خصوصيت ہے...ليکن مصيبت يہ ہے کہ نظرياتي اختلاف سے دشمني پيدا ہو تي ہے 
اس ميں کو ئي شک نہيں ہے کہ ہم شيعہ و سني سے پہلے، مسلمان ہيں،مسلمان آپس ميں ايک دوسرے کے بھا ئي بھا ئي ہيں ،کيا ايک بھا ئي دوسرے بھا ئي سے دشمني رکھتا ہے ؟ 
اصحاب رسول ميں خصوصاًوفات آنحضرت  کے بعد اسلام کے بہت سے فرعي مسائل ميں اختلاف تھا ،وضو ،ميراث ،شادي وغيرہ اور کچھ احکام ميں اختلاف تھا ليکن اس سے ان کے اتحاد کو ٹھيس نہيں پہنچتي تھي،سب ايک پيشنماز کي اقتدا ميں نماز جماعت پڑھتے تھے ،ہرگز کو ئي جماعت دوسري جماعت کو کافر قرار نہيںديتي تھي يہي وجہ تھي کہ نصف صدي ميں اسلام مشرق و مغرب پر چھا گيا تھالہذا ہر مسلمان خصوصاً قائد و علماء کے لئے ضروري ہے کہ اس تقدير ساز دور ميں مسلمانوں کے درميان اتحاد قائم کرنے کي پوري کوشش کريں شيعہ و اہل سنت کے درميان اتحاد کے يہ معني نہيں ہيں کہ شيعوں سے ہم يہ کہيں کہ وہ اہل سنت کا عقيدہ اختيار کر ليں اور شيعہ اہل سنت سے يہ کہيں کہ وہ شيعوں کا عقيدہ اختيار اپنا ئيں بلکہ اتحاد يہ ہے کہ ہم ايک دوسرے دوسرے دشمني نہ رکھيں
.....کتني عجيب بات ہے !ہم مسلمان ہيں ليکن قرآن کي زبان سے واقفيت نہيں ہے،ہم کہتے ہيں کہ ہم مسلمان ہيں ليکن ہماري تاريخ عيسوي والي ہے،ہم مسلمان ہيں ليکن اتوار کے روز چھٹي کرتے ہيں،ہم مسلمان ہيں ليکن انگريزي ميں گفتگو کرنے کوکو مايہ فخر سمجھتے ہيں ،ہم مسلمان ہيں ليکن عربي سے ناآشنا ہيں ،ہاں غيروں کي زبان ميں اچھي طرح بات چيت کر ليتے ہيں .. . . ليکن اپني مادري زبان ، اپنا کلچر ،اپني تہذيب ،اپني ثقافت و.....سب سے نہ آشنا ہيں  ہم مسلمان ہيں ليکن ہمارے متمول حضرات ناداروں کي کي مدد نہيں کرتے ، ان کي صحيح رہنمائي نہيں کرتے ،ان کي صحيح تعليم تربيت کا انتظام نہيں کرتے .. ....اے مسلمانو!تم سب کو ميرا وہ پيغام پہنچے جو کہ قلب سوزاں اور مہربان باپ کے دل سے نکلا ہے ،اس باپ کے دل سے کہ جس نے ناگوارياں ديکھي ہيں اور تجربات کئے ہيں ،اس باپ کے دل سے جس کو حوادث نے ضعيف اور مرور ايام نے بوڑھا بنا ديا ہے
اے علماء اور قوم کے ذمہ دار و!مسلمانوں کو متحد کرنے کي کوشش کرو ، مجھے اميد ہے کہ جس طرح اسلام نے ابتداء ميں دنيا کو ہلا کر رکھ ديا تھا ،دوبارہ تمہاري کوششوں سے اسلام پھر زندہ ہو جا ئے گا ...اے ايک خدا کے ماننے والو!متحد ہو جاؤ ديکھو !گنبد اسلام دوپايوں پر استوار ہے ،کلمہ توحيد اور توحيد کلمہ.....ہر قوم ميں تين چيزوں سے انقلاب آتا ہے ،طاقتور قوم ،صحيح افکار اور سعي پيہم ليکن يہ بات بھي عرض کر دينا ضروري سمجھتا ہوں کہ سب سے بڑي مصيبت اور سب سے بڑا مرض نفاق و دوغلي چال ہے،منافق وہ لوگ ہيں جو خود کو مسلمان کہتے ہيں ،ہمارے ہي ساتھ زندگي بسر کرتے ہيں ليکن خفيہ طريقہ سے ہماري کوششوں کو برباد کرتے ہيں ....يہ لوگ وہ ہيں جن پر خدا کي لعنت ہے ...خدا وند عالم سے ہماري دعا ہے کہ ہميں ان کے شر سے محفوظ رکھے . . . . ميري تقرير کا خلاصہ يہ ہے کہ ہم مسلمانوں کو مضبوط و محکم ہو نے کي سخت ضرورت ہے اور يہ استحکام صرف وحدت و ہمبستگي ہي سے وجود ميں آسکتا ہے ، ميرے بھائيو!اتحاد کي طرف بڑھو...''(18)
وجود عظمت اقوام اتحاد سے ہے
فروغِ پرچم اسلام اتحاد سے ہے
نظامِ گردش ايام اتحاد سے ہے        يہ رونق سحر و شام اتحاد سے ہے
الگ رہيں تو يہ ذرے غبار بنتے ہيں    ہو اتحاد تو پھر کوہسار بنتے ہيں
(پيام اعظمي)
رہبر کبير انقلاب حضرت امام خميني فرماتے ہيں :
اسلام نے تمام مذاہب اسلاميہ کو حبل الہي سے متمسک رہنے کي دعوت دي ہے اور اس دستور الہي سے سر پيچي جرم ہے ،گناہ ہے دستور اسلام ہے کہ ہم سب ''معتصم بہ حبل اللہ'' رہيں 
نيز آپ فرماتے ہيں :تمام ملت و حکومت اسلامي اگر وہ يہ چاہتے ہيں اپنے اسلامي اہداف و مقاصد ميں کامياب و کامران ہو جا ئيں تو ان کے لئے ضروري ہے کہ وہ حبل الہي سے متمسک رہيں اور اختلافات اور تفرقہ سے پرہيز کريں اور حکم و دستور حق تعالي کي اطاعت کريں يہ خدا کي عطا کردہ ايک عظيم نعمت و برکت ہے اور تمام برداران اہل تسنن و تشيع کو يکجا جمع کرديا لہذا سب ملکر اسلام کي کاميابي و کامراني کے لئے کوشش کريں کيونکہ اسلام مغلوب ہونے کے لئے نہيں بلکہ تمام اديان و جہان پر غالب ہو نے کے لئے آيا ہے
حزب اللہ :(26جمادي الاول 1405ھ مطابق 16فروري1985ء کوراغب حرب کي شہادت کي پہلي برسي کے موقع پر صادر کردہ پيغام ميں پوري دنيا کے مسلمانوں کو مخاطب کيا کہ)اے امت مسلمہ !استعمار کے فتنوں کو سمجھو ، اور تمہارے درميان اختلاف ڈالنے کي اس سازشوں کو سمجھو،تم اپنے درميان شيعہ و سني تعصبات کو ہوا دينے کے استعماري طريقوں کو پہچانو!ياد رکھو جب بھي استعمار کو موقع ملے گا وہ تمہارے اتحاد کي صفوں ميں رخنہ ڈالنے کي ہر ممکن کوشش کرے گا اور شيعہ سني کو ايک دوسرے کے خلاف بھڑکائے گاوہ يا تو براہ راست اس کام کو انجام دے گا يا اپنے زرخريد غلاموں اور درباري ملاؤں کو اس کام پر مامور کرے گا اور خود مسلمانوں کي دولت کو برباد کرے گااس لئے آپ سب اتحاد بين المسلمين کے فرمانِ الہي پر عمل کريں اور اسے اپنے عمل کا معيار قرار ديں اس لئے کہ يہ اتحاد بين المسلمين ہي وہ چيز ہے کہ مستکبروں کي سازشيں جس سے ٹکرا کر پاش پاش ہو گئي ہيں اور ظالموں کي ساري تدبيريں اس کے آگے بيکار ہيںاللہ کي رسي کو مضبوطي سے تھامے رہو اور آپس ميں تفرقہ نہ کرو!اجازت نہ دو کہ تمہارے ملک ميں ''تفرقہ پھيلاؤاور حکومت کرو''والي سياست رائج ہواور ہميشہ ان آيات کو ياد رکھو:
''وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ ا جَمِيعًا وَلاَتَفَرَّقُوا ، وَاذْکُرُوا نِعْمَةَ ا عَلَيْکُمْ ِذْ کُنْتُمْ َعْدَائً فََلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِکُمْ فََصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِہِ ِخْوَانًا''اور اللہ کي رسي کو مضبوطي سے پکڑے رہو اور آپس ميں تفرقہ پيدا نہ کرو  اور اللہ کي نعمت کو ياد کرو کہ تم لوگ آپس ميں دشمن تھے اس نے تمہارے دلوں ميں الفت پيدا کردي تو تم اس کي نعمت سے بھا ئي بھا ئي بن گئے   (19)
'' ِنَّ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَہُمْ وَکَانُوا شِيَعًا لَسْتَ مِنْہُمْ''جن لوگوں نے اپنے دين ميں تفرقہ پيدا کيا اور ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے ان سے آپ کا  کو ئي تعلق نہيں ہے (20)
اے علمائے اسلام !آپ امت مسلمہ کي رہبري کے سب سے زيادہ حقدار ہيں ،آپ کي ذمہ داري اتني سنگين ہے جتني مسلمانوں کے سروں پر پڑنے والي مصيبتيں ،آپ کا فريضہ ہے کہ مسلمانوں کو دشمنوں کي طرف سے ان کي دولت کے لے اور ان کے غلام بناے جانے کي سازشوں سے آگاہ کريں  بيشک آپ جانتے ہيں کہ مسلمان آپ کو امانت دار ،رسول اللہ  اور پيغمبروں کے وارثوں کے طور پر ديکھتے ہيں  اسي لئے حق کو عياں کرنے اور طاغوت ميں اور مستکبروں کے سامنے استقامت کا مظاہرہ کر کے ان کے ان کے لئے نمونہ عمل بنيں ...ياد رکھيں! استعمار آپ کي اپني امت ميں اہميت کو جانتا ہے اس لئے اس نے ہميشہ سب سے کاري ضرب عالم مجاہد پر لگا نے کي سعي پہم کي ہے . . . . . اس لئے آپ کي سب سے اہم ذمہ داري مسلمانوں کي تربيت اور ان کو دين کے احکام کا پابند بنانا ہے 
ڈاکٹر عبد المتعال سعيدي (دانشگاہ الزہرا مصر کا ستاد )کہتا ہے :
''علي بن ابي طاب عليہ السلام تقريب مذاہب کے وہ پہلے بنيان گزار ہيں جو يہ جانتے تھے کہ وہ ديگر تمام لوگوں سے مسئلہ  خلافت ميں سب سے زيادہ سزاوار و حقدار ہيں ، ليکن اس کے باوجود کبھي بھي ابوبکر ،عمر و عثمان سے بد رفتاري نہيں کي اور نہ ہي کبھي ان کے تعاون سے دست بردار ہو ئے اور ہر جگہ ان کي رہنما ئي فرمائي (21)
آپ فرماتے ہيں :
''ايھا الناس ،شقوا امواج الفتن بسفن النجاة ، و عرّجوا عن طريق المنافرة ،و ضعوا تيجان المفاخرة  افلح من نھض بجناح .....''اے لوگو!فتنوں کي موجوں کو نجات کي کشتيوں سے چير کر نکل جاؤ اور منافرات کے راستوں سے الگ رہو ،باہمي فخرو مباہات کے تاج اتاردو کہ کاميابي اسي کا حصہ ہے جو اٹھے تو بال و پر کے ساتھ اٹھے .....(22)
اپني ايک وصيت ميں آپ  نے بالظاہر (اپنے دونوں فرزند )حضرت امام حسن و امام حسين عليہم السلام کو مخاطب کر کے امت مسلمہ کو متوجہ کرنا چاہا کہ ديکھو!اپنے درميان تعلقات کو سدھارے رکھنا کہ ميں نے اللہ کے رسول حضرت ختمي مرتبت سے سنا ہے کہ آپس کے معاملات کو سلجھا کر رکھنا عام نماز اور روزہ سے بھي بہتر ہے (23)
يہ اس بات کي علامت ہے کہ اسلام کا بنيادي مقصد معاشرہ کي اصلاح سماج کي تنظيم اور امت کے معاملات کي تر تيب ہے اور نماز روزہ کو بھي در حقيقت اس کا ايک ذريعہ بناياگيا ہے ورنہ پروردگار کسي کي عبادت و بندگي کا محتاج نہيں ہے اور اس کا تمام تر مقصد يہ ہے کہ انسان پيش پروردگار اپنے کو حقير و فقير سمجھے اس ميں يہ احساس پيدا ہو کہ ميں بھي تمام بندگان خدا ميں سے ايک بندہ ہوں اور جب سب ايک ہي خدا کے بندے ہيں اور اس کي بارگاہ ميں جانے والے ہيں تو آپس کے تفرقہ کا جواز کيا ہے اور يہ تفرقہ کب تک برقرار رہے گا؟! بالآخر سب کو ايک دن اس کي بارگاہ ميں ايک دوسريے کا سامانا کرنا ہے 
اس کے بعد اگر کو ئي شخص اس جذبہ سے محروم ہو جا ئے اور شيطان اس کے دل و دماغ پر مسلط ہو جا ئے تو دوسرے افراد کو فرض ہے کہ اصلاحي قدم اٹھا ئيں اور معاشرہ ميں اتحاد و اتفاق کي فضاء قائم کريںکہ يہ مقصد الہي کي تکميل اور ارتقاء بشريت کي بہترين علامت ہے نماز روزہ انساني کے ذاتي اعمال ہيں اور سماج کے فساد سے آنکھيں بند کر کے ذاتي اعمال کي کو ئي حيثيت نہيں رہ جا تي ہےورنہ اللہ کے معصوم بندے کبھي گھر سے باہر ہي نہ نکلتے اور ہميشہ سجدہ پروردگار ہي ميں پڑے رہتے (24)
اجتماع سے ہٹ کر جو زندگي بسر کرنا چاہے گا وہ بہت جلد خوارک دشمن بن جا ئے گا جيسے گوسفند اپنے گلہ سے صحرا ميں جب بھي تنہا ہوا اسے بھيڑيہ کے منھ کا نوالہ بننا پڑا ہے لہذا متحد رہنے کي تاکيد و سفارش کي گئي ہے 
خاتم الانبياء صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامي ہے :
''با ايمان معاشرے کے افراد مہر و محبت کے لحاظ سے ايک بدن کي طرح ہيں .....لہذا اگر کو ئي مسلمان رنج و الم ميں مبتلا ہو جا ئے تو معاشرے کے تمام افراد پر لازم ہے کہ اس کي مدد کريں اور اس کے غم ميں برابر کے شريک ہوجائيں (25)
حضرت امير  اپنے خطبہ ميں ارشادفر ماتے ہيں: ''خبردار!تفرقہ کي کوشش نہ کرنا جو ايماني جماعت سے کٹ جاتا ہے وہ اسي طرح شيطان کا شکار ہو جا تا ہے جس طرح گلہ سے الگ ہو جانے والي بھيڑ بھڑيہ کي نظر ہو جا تي ہے (26)
نيز آپ نے فرمايا: ''بندگان خدا !ميں تمہيں تقوي الہي کي وصيت کرتا ہوں اور تمہيں منافقين سے ہوشيار کرتا ہوں کہ يہ گمراہ اور گمراہ کن بھي ، منحرف بھي ہيں اور منحرف ساز بھي ہيں مسلسل رنگ بد لتے رہتے ہيں اور طرح طرح کے فتنے اٹھاتے رہتے ہيں ...ان کے دل بيمار ہيں اور ان کے چہرے پاک و صاف ، اند ر ہي اندر چال چلتے ہيں مصيبتوں ميں مبتلا کر دينے والے اور اميدوں کو نااميد بنا دينے والے ہيں ،تہذيب کے نام پر فساد ، مواصلات کے نام پر تباہ کاري ،امن عالم کے نام پر اسلحوں کي دوڑ ،تعليم کے نام پر بد اخلاقي اور مذہب کے نام لامذہبيت.(27)
سيد العلماء سيد علي نقي نقوي طاب ثراہ ''کا بيان ہے کہ :کيوں نہ ہم مشترک امور پر مجتمع ہوں کيوں نہ ہم ميںاتني روا داري پيدا ہو اور ہمارے دل ميں اتني وسعت ہو کہ ہم اختلاف رائے کو برداشت کرسکيں اتحاد عمل سے کام ليں 
اس وقت(دنيا جس مرحلہ سے گزررہي ہے ،بالخصوص ہمارا) ہندوستان جس دور سے گزررہاہے ،مسلمانوں کے جتنے عظيم مشکلات کا سامنا ہے ،ان عظيم مشکلات ميں ہمارا طرز عمل اگر يہ رہا ،اگر ہم آپس ميں لڑتے رہے تو نتيجہ يہ ہوگا کہ ہمارا وجود صفحہ ہندوستان سے اسي طرح محو ہو جائے گاجس طرح اسپين سے ہماراوجود فنا کرديا گيا،جس طرح فلسطين سے مسلمانوں کو نکالا جارہا اور آج يہ کوشش پوري دنيا ميں جاري ہے کہ ہمارے وجود کو فنا کرديا جائے....(28)
علامہ اقبال نے بھي اپنے درددل کو يوں بيان کيا ہے کہ :
 
منفعت ايک ہے اس قوم کي،نقصان بھي ايک      ايک ہي سب کا نبي دين بھي ايمان بھي ايک 
حرم پاک بھي اللہ بھي قرآن بھي ايک               کچھ بڑي بات تھي ہوتے جو مسلمان بھي ايک 
فرقہ بندي ہے کہيں اور کہيں ذاتيں ہيں                    کيا زمانے ميں پنپنے کي يہي باتيں ہيں
حوالہ جات

1ملکوت اخلاق صفحہ 317و پيامبر اسلام از نظر دانشمندان شرق و غرب صفحہ 156
2کليات ولٹر ج24ص534و555
3ملکوت اخلاق صفحہ 318و پيامبر اسلام از نظر دانشمندان شرق و غرب صفحہ 156
4 وسائل الشيعہ ج8ص541
5سنن ابي دواد،5121
6مغربي تمدن کي ايک جھلک صفحہ39
7 سورہ انبيائ92
8کنز العمال ج1ص206
9 الف سورہ بقرہ 11و12
10کنز العمال جلد1 صفحہ 163
11سورہ توبہ:68
12سفينة البحار جلد 4 صفحہ 380
13کنز العمال جلد15صفحہ 163،صفحہ 37 سنن ابي داؤد جلد2 صفحہ 79،صحيح مسلم جلد5 صفحہ 186
14سورہ انعام 151،نساء 93
15طبراني و بيہقي ،بہ سوي تفاہم صفحہ 257
16صحيح مسلم،کتاب الامارہ حديث 1852
17جاويد نامہ ص491
18آواي بيداري صفحہ 73تا 76ماخوذاز کاشف الغطاء صفحہ 77تا79
19سورہ آل عمران 103
20سورہ انعام 159
21شيعہ سني غوغہ ساختگي 
22خطبہ5 نہج البلاغہ 
23نامہ 47نہج البلاغہ
24نہج البلاغہ صفحہ 565
25سفينة البحار ج1ص13
26127خطبہ صفحہ 246 
27 نہج البلاغہ خطبہ 194صفحہ 404
28سيد مصطفي حسين نقوي اسيف جائسي ،بنگال ميں شيعوں کے ملي و مذہبي خدمات 
تحریر:سيد تقي عباس رضوي قمي(کلکتہ)
بشکریہ اہلبیت فاونڈیشن

+ نوشته شده توسط در پنجشنبه بیست و ششم بهمن ۱۳۹۶ و ساعت 21:22 |

نویسنده : بازدید : 3 تاريخ : شنبه 28 بهمن 1396 ساعت: 23:18
برچسب‌ها :